ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / سرکاری کمیٹی بن کر رہ جائے گا لوک پال، کون جائے گا رافیل کی شکایت لے کر 

سرکاری کمیٹی بن کر رہ جائے گا لوک پال، کون جائے گا رافیل کی شکایت لے کر 

Tue, 19 Mar 2019 00:03:45    S.O. News Service

نئی دہلی، 18 مارچ ( ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا ) بدعنوانی کے معاملات میں تحقیقات کے لئے ایک آزاد ادارے لوک پال کے قیام کا انتظار ختم ہو گیا ہے۔سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس پناکی چندر گھوش (پی سی گھوش) ملک کے پہلے لوک پال بننے جا رہے ہیں،بدعنوانی کے خلاف تحریک سے نکلا لوک پال قانون یوپی اے 2 کی حکومت کے آخری دنوں میں پاس ہوا اور 5 سال بعد این ڈی اے حکومت کے آخری دنوں میں لوک پال کی تقرری کا راستہ صاف ہو الیکن ادارے بننے کے ساتھ ہی لوک پال کی تقرری اور اعتباریت کو لے کر سوال بھی کھڑے ہو گئے ہیں۔لوک پال تحریک کا حصہ رہے سینئر وکیل پرشانت بھوشن نے بات چیت میں کہا کہ حکومت نے 5 سال تک تقرری میں تاخیر کی،اس کے بعد انتخاب کے عمل سے اپوزیشن کو ہٹا دیا،پرشانت بھوشن رافیل معاملے میں سپریم کورٹ میں درخواست گزار بھی ہیں، اس سوال کے جواب میں کہ کیا وہ رافیل معاملے کی شکایت لوک پال میں درج کرائیں گے، پرشانت بھوشن نے کہاکہ ایسے شخص کو لوک پال بنا دیا جس کی اعتباریت پہلے ہی شک کے گھیرے میں ہے۔تمل ناڈو کی سابق وزیر اعلی جے للتا کے معاملے میں پہلے تو وہ مہینوں بیٹھے رہیں،پھر جے للتا کے انتقال کے بعد فیصلہ سنایا،اس کے علاوہ سابق جسٹس بھٹاچاریہ بھی جسٹس پی سی گھوش کو لے کر کافی تلخ تبصرہ کر چکے ہیں۔

طویل شفافیت اور جوابدہی کے لے کرعوامی تحریکوں کا حصہ رہیں سماجی کارکن انجلی بھاردواج کا کہنا ہے کہ بدعنوانی کو روکنے کے لئے طویل لوک پال جیسی آزاد اور مضبوط ادارے کی ضرورت تھی،تب یہ طے ہوا تھا کہ آزاد شخص کو لوک پال بنایا جائے گا لیکن لوک پال کے انتخاب میں بالآخر حکومت کی ہی چلی۔قانون کے مطابق لوک پال کاانتخاب پانچ رکنی کمیٹی کو کرنا ہوتا ہے، جس میں وزیر اعظم، لوک سبھا اسپیکر، حزب اختلاف کے لیڈر، چیف جسٹس یا ان کی طرف سے بھیجے گئے نمائندے مل کر ایک نامور قانون داں کا انتخاب کرتے ہیں،اس کے بعد یہ پانچ رکنی کمیٹی لوک پال منتخب کرتی ہے لیکن لوک سبھا میں کافی تعداد نہ ہونے کی وجہ سے کانگریس کو اپوزیشن پارٹی کے طور پر منظوری نہیں دی گئی اور لوک سبھا میں کانگریس کے لیڈر ملکا ارجن کھڑگے کو خصوصی مدعو کے طور پر بلایا گیا،جس وجہ سے انہوں نے اجلاس میں آنے سے انکار کر دیا۔

انجلی بھاردواج کا کہنا ہے کہ اپوزیشن پارٹی کی غیر موجودگی میں نامورقانون داں کو منتخب کرنے کے لئے پینل کی تعداد 3 ہی رہ گئی،جس میں وزیر اعظم اور لوک سبھا اسپیکر کے سبب حکومت کی اکثریت ہو گئی ، اس تین رکنی پینل نے قانون داں کے طور پر سابق اٹارنی جنرل مکل روہتگی کومنتخب کیا، جو موجودہ حکومت کے قریبی مانے جاتے ہیں،اس لحاظ سے لوک پال کے انتخاب میں کھڑگے کی غیر موجودگی میں حکومت کی ہی چلی اور یہ ایک سرکاری کمیٹی بن کر رہ گئی۔انجلی کا کہنا ہے کہ انہوں نے کئی دفعہ حق اطلاعات قانون کے ذریعے لوک پال انتخاب کے عمل کے بارے میں پوچھا لیکن انہیں اطلاع دینے سے انکار کر دیا گیا۔اس سے صاف ہوتا ہے کہ انتخاب میں شفافیت نہیں برتی گئی،جو سب سے بڑا سوال ہے۔اس کے بننے سے پہلے ہی ادارے میں اعتماد کو دھکا لگا ہے،اگر اقتدار میں رہنے والے بی جے پی اور کانگریس کو ہی لوک پال کی تقرری کرنی تھی تو بدعنوانی کی تحقیقات کے لئے سی وی سی اور سی بی آئی تو پہلے سے ہی ہے۔قانون میں لوک پال کو بہت ساری طاقتیں دی گئی ہیں، لوک پال کو پی ایم سے لے کر تمام سرکاری افسران کی جانچ کا مکمل حق ہے،لوک پال کو شکایت ملنے کے 30 دن کے اندر اندر ابتدائی تحقیقات کرنی ہوگی،جس کی مدت بڑھاکر 3 ماہ کی جا سکتی ہے تو وہیں انکوائری 6 ماہ کے اندر اندر مکمل کرنی ہوگی جسے 6 ماہ اور بڑھا جا سکتا ہے۔مجموعی طور پر 1 سال میں تفتیش مکمل کرنی ہوگی۔اس لحاظ سے طویل اٹکے پڑے بدعنوانی کے معاملات کی تفتیش میں تیزی آئے گی۔لیکن انجلی بھاردواج کا کہنا ہے کہ یہ اس وقت ممکن ہے جب لوک پال صحیح طریقے سے کام کرے۔مرکزی حکومت نے 2018 میں بدعنوانی کی روک تھام ایکٹ میں ترمیم کے ذریعے طے کیا ہے کہ حکومت کی اجازت کے بغیر تحقیقات اور پوچھ گچھ کی اجازت نہیں ہوگی۔ایسے میں حکومت اپنے ہی خلاف تحقیقات کی اجازت کیوں دے گی؟۔

حال میں بحث میں رہے بینک دھوکہ دہی کیس، رافیل سودا اور سہارا بڑلا ڈائری کو لے کر انجلی بھاردواج کا کہنا ہے کہ اگر لوک پال ہوتے تو وہی ان معاملات کی تحقیقات کرتے لیکن حکومت نے پہلے تو 5 سال تک لوک پال کی تقرری نہیں کی اور تقرری کی بھی تو ایسے وقت جب عام انتخابات کا نوٹیفکیشن جاری ہو چکا ہے،جب اتنا انتظار کر لیا تو چند ماہ بعد جب نئی حکومت آتی تو اسے ہی لوک پال کو منتخب کرنے دیا ہوتا۔ایسے میں جاتے جاتے بغیر شفافیت برتے لوک پال کی تقرری کرنا ایک مقدس ادارے کا نام خراب کرنا ہے۔


Share: